نئی دہلی،21؍دسمبر(آئی این ایس انڈیا) انتخابی اصلاحات سے متعلق بل لوک سبھااورراجیہ سبھاسے پاس ہوگیاہے۔ اس بل میں ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس بل کے حوالے سے اپوزیشن کی طرف سے مخالفت کی آوازیں آرہی ہیں۔ اپوزیشن کے کئی ارکان کا خیال ہے کہ انتخابی قوانین میں ترمیم کا بل مزید بحث کے لیے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے، اس کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے رہنما ملکاارجن کھڑگے نے بتایاہے کہ ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کے لیے انتخابی قانون میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جاناچاہیے۔اس وقت ملک میں آدھار سسٹم میں بہت سی خامیاں ہیں، اگر انہیں ووٹر کارڈ سے جوڑ دیا جائے تو سب سے زیادہ نقصان غریب ووٹروں کو ہوگا۔کھڑگے نے کہاہے کہ اکثر انتخابات میں دیکھا گیا ہے کہ امیر لوگ غریب لوگوں کے آدھار کارڈ خریدتے ہیں اور پھر پولنگ ختم ہونے کے بعد انہیں واپس کردیتے ہیں اس سے امکانات اور بھی بڑھ جائیں گے۔ سماج وادی پارٹی نے انتخابی قانون ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے بتایاہے کہ ہم راجیہ سبھا میں انتخابی قانون ترمیمی بل کی مخالفت کریں گے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو ملک کے لاکھوں محروم طبقے اور پسماندہ طبقے کے لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم ہو جائیں گے جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے۔ اس بل کو نظرثانی کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی یا پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اسمبلی منوج جھانے کہاہے کہ انتخابی قانون بل انتخابی ہیرا پھیری (دھوکہ دہی) بل ہے۔ اسے قائمہ کمیٹی یا سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) نے بل کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹی آر ایس کے ایم پی اور لیڈر کیشاوراؤنے بتایاہے کہ ہم انتخابی قانون میں ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس بل کو مزید جائزہ کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی یا پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔